'سی اے اے' سے 'این پی آر' تک.......بات اب بھی وہی ہے !!!
تحریر : نثار مصباحی
ملک گیر بلکہ عالَم گیر احتجاجات اور متعدد عالَمی اداروں اور حکومتی افراد کے اعتراضات کے بعد 'سی اے اے' (شہریت-ترمیمی-قانون2019) اور 'این آر سی' کے مسئلے پر 'مودی-ساہ حکومت' بَیک فُٹ پر ہے. اور بظاہر 'این آر سی' کے معاملے پر خاموشی اختیار کر چکی ہے. مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سکوت وقتی ہو, اور 'سی اے اے' پر 22 جنوری 2020 کو سپریم کورٹ کے رُخ کا انتظار کیا جا رہا ہو. اگر بالفرض 'سی اے اے' پر سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے موافق آیا تو پھر یہ لوگ 'این آر سی' کی بات دوبارہ زور و شور بلکہ مزید مضبوطی کے ساتھ اٹھا سکتے ہیں.
مگر اِسی درمیان حکومت نے 'این پی آر' کا شوشہ چھوڑ دیا ہے. 'این پی آر' یعنی National Population Register (قومی آبادی رجسٹر) کا نوٹیفیکیشن گزٹ 31 جولائی 2019 کو حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا تھا. اِس کا کام 1 اپریل 2020 سے 30 ستمبر 2020 تک پورے ملک میں ہوگا, جس میں بھارت میں رہائش پذیر ہر فرد کا اندراج ہوگا, خواہ وہ ملکی ہو یا غیرملکی. 'این پی آر' پر ہونے والے خرچ کے لیے تقریبا 4 ہزار کروڑ کا بجٹ بھی حکومت نے جاری کر دیا ہے.
'این پی آر' کا عمل اس سے پہلے کانگریس دورِ حکومت میں 2010 میں بھی ہو چکا ہے. مگر اس وقت جو چیزیں 'این پی آر' میں مانگی گئی تھیں وہ عام سی چیزیں تھیں جنھیں بتانے سے کسی کی شہریت پر کوئی اندیشہ یا خطرہ نہیں تھا. تب یہ 15 چیزیں پوچھی گئی تھیں:
1- نام.
2- والد کا نام.
3- ماں کا نام.
4- ازدواجی حالت(یعنی شادی شدہ ہیں یا نہیں).
5- شوہر/بیوی کا نام(اگر شادی شدہ ہیں).
6- گھر کے مُکھیا سے رشتہ.
7- جنس (مرد یا عورت).
8- تاریخِ پیدائش.
9- پیدائش کی جگہ.
10- قومیت (یعنی کس ملک کے شہری ہیں).
11- موجودہ رہائشی پتہ.
12- موجودہ پتے پر رہائش کی مدت.
13- مستقل پتہ.
14- پیشہ(یعنی کیا کرتے ہیں).
15- تعلیمی لیاقت.
یہ کانگریس دورِ حکومت کے 'این پی آر' میں پوچھی گئی تفصیلات ہیں. اِن میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی بنیاد پر کسی بھارتی شہری کی شہریت(ناگرِکتا) 'مشکوک' قرار دی جا سکے.
مگر اِس بار کے 'این پی آر' میں بی جے پی حکومت نے درج ذیل مزید 8 چیزیں پوچھی ہیں:
16- سابقہ رہائش(یعنی اِس سے پہلے کہاں رہتے تھے).
17- آدھار نمبر.
18- موبائل نمبر.
19- ووٹر آئی ڈی نمبر.
20- پَین PAN نمبر.
21- پاسپورٹ نمبر (اگر پاسپورٹ ہے)
22- ڈرائیونگ لائسینس نمبر.
23- والدَین(ماں-باپ) کی تاریخِ پیدائش اور مقامِ پیدائش !!
کہا تو یہ جا رہا ہے کہ 'این پی آر' میں کوئی دستاویز نہیں مانگا جائے گا, مگر آدھار, ووٹر آئی ڈی, پَین, ڈرائیونگ لائسنس, اور پاسپورٹ, یہ سبھی اہم دستاویز ہیں جن کے نمبر سب سے مانگے جا رہے ہیں.
'آدھار' کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اختیاری ہے, یعنی آپ چاہیں تو بتائیں اور چاہیں تو نہ بتائیں, مگر کانگریس لیڈر اَجے ماکَن نے پریس کانفرنس میں وضاحت کی ہے کہ آدھار کے بارے میں optional کا لفظ نہیں بلکہ If available کا لفظ لکھا گیا ہے, یعنی اگر آپ کے پاس آدھار ہے تو آدھار نمبر بھی لکھوائیں, ورنہ کوئی بات نہیں. اب اگر کوئی شخص آدھار available ہوتے ہوئے بھی(یعنی آدھار رکھتے ہوئے بھی) آدھار نمبر نہیں دیتا ہے تو اس کا مطلب یہی سمجھا جائے گا کہ اس کے پاس آدھار نہیں ہے. !!
آدھار نمبر کے ذریعے آپ کی بایومیٹرک تفصیلات یعنی انگلیوں کے نشان اور آنکھوں کی پتلی/پردۂ چشم کا عکس بھی ان تمام تفصیلات کے ساتھ یکجا ہو جائے گا, کیوں کہ یہ دونوں چیزیں آدھار میں موجود ہیں. !!!
اِن مزید چیزوں میں آدھار سے لےکر ڈرائیونگ لائسینس تک کی 6 چیزیں انسان کی نہایت نِجی اور محفوظ رکھی جانے والی چیزیں ہیں جو ہر کسی کو نہیں بتائی جا سکتی ہیں. ایسی صورت میں یہ شہریوں کی پرائیویسی اور رازداری پر سیدھا حملہ ہے.
آخری چیز یعنی والدین کی تاریخِ پیدائش اور مقامِ پیدائش پوچھنے سے یہ بالکل واضح ہو جارہا ہے کہ حکومت اِس 'این پی آر' کو 'این آر سی' کے لیے ہی استعمال کرنے والی ہے, ورنہ 'این پی آر' میں اِس سوال کا کوئی تُک ہی نہیں ہے.
سابق آئی اے ایس افسر اور سماجی کارکن ہرش مَندَر نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک بات بالکل صحیح کہی ہے کہ "این پی آر, این آر سی سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوگا. ! کیوں کہ 'آسام این آر سی' میں ہر شہری سے دستاویز مانگے گئے. جس کی وجہ سے ہر قوم کے لوگ اس میں پھنس گئے. مگر 'این پی آر' ہونے کے بعد حکومت اس 'این پی آر' میں سے 'مشکوک' لوگوں کو چھانٹے گی اور پھر ان کی شہریت خطرے میں ہوگی. !! اور ہم سب جانتے ہیں کہ کن لوگوں کو 'مشکوک' قرار دے کر چھانٹا جائے گا."
اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی بالکل واضح ہے کہ جو لوگ اپنے والدین کی تاریخِ پیدائش اور مقامِ پیدائش نہیں بتائیں گے یا بتا نہیں سکیں گے وہ پہلی نظر میں ہی 'مشکوک' قرار پائیں گے. اور پھر یہ بھی عین ممکن ہے کہ مشکوک لوگوں کی ایک فہرست بنے اور ان کی شہریت کے ثبوت مانگے جائیں. نتیجہ وہی 'این آر سی' کی صورت میں سامنے آئے گا. !!
مجھے اپنی قوم کے اُن پیشواؤں اور 'پیشوا-نُما' لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو ابھی تک اس 'این پی آر' کو عام جَن گَڑنا/مردم شماری کا حصہ سمجھ رہے ہیں اور 'این آر سی' کی مخالفت تو کر رہے ہیں مگر 'این پی آر' پر خاموش ہیں.
کاش کسی سماجی تنظیم/پارٹی کی طرف سے اِس بار کے 'این پی آر' میں بڑھائے گئے 8 کالموں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جاتی اور ان کالموں کو ہر بھارتی شہری کی پرائیویسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور غیرضروری قرار دلوا کر ختم کروایا جاتا, تو یہ خطرہ کمزور پڑتا. سپریم کورٹ لوگوں کی پرائیویسی کے حق میں کئی فیصلے دے چکی ہے اور اس سلسلے میں اس کی واضح ہدایات بھی موجود ہیں.
وقت رہتے یہ کام ہونا چاہیے ورنہ جب 'این پی آر' ہوجائے گا اور اس میں سے چھانٹ چھانٹ کر ایک ایک کو الگ کیا جائے گا تو کوئی کچھ نہیں کر پائے گا. ابھی وقت ہے.
جن لوگوں کا جھوٹ بار بار دیکھا جا چکا ہے ایسے جھوٹوں کی بات پر بھروسا کرنا بیوقوفی ہے. جب یہ سیاسی بازی گر یہ کہیں کہ 'اِس کا اُس سے کوئی لینا-دینا نہیں ہے' تو سمجھ جائیے کہ دونوں کا آپس میں بہت کچھ لینا دینا ہے. اور جب مکر کے ماہر سیاست داں یہ کہیں کہ 'دیش واسِیوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے', تو سمجھ جائیے کہ یہی فکرمند ہونے کا وقت ہے, ورنہ بہت دیر ہو چکی ہوگی.
وزیرِ داخلہ اَمِت ساہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس بار 'این پی آر' میں کچھ چیزیں زیادہ پوچھی گئی ہیں مثلا گھر میں کتنے جانور ہیں!! جب کہ موجودہ این پی آر کے 22 کالموں میں جانوروں کا کوئی کالم نہیں ہے. !!
جب سے 'سی اے اے' بِل یہ لائے ہیں تب سے آج تک چِلّا رہے ہیں کہ "تینوں ملکوں (بنگلہ دیش, پاکستان, افغانستان) میں مذہبی بنیاد پر ستائے گئے ہندو, جین, سکھ, بدھسٹ, پارسی, اور عیسائی کو ہم بھارت کی شہریت دیں گے." جب کہ سچائی یہ ہے کہ 'سی اے اے' قانون کے اندر یہ لفظ ("مذہبی بنیاد پر ستائے گئے") ہے ہی نہیں. !!! کیوں کہ اگر قانون میں یہ لفظ ہوتا تو اس قانون کے تحت شہریت حاصل کرنے سے پہلے ثابت کرنا پڑتا کہ ان ملکوں میں "مذہبی بنیاد پر ہم ستائے گئے ہیں", اور یہ ثابت کرنا بےحد مشکل ہوتا. اس کے علاوہ یہاں آسام میں این آر سی سے باہر ہوئے غیرمسلموں کو دوبارہ شہریت دینے کا امکان ہی ختم ہو جاتا. اس لیے 'سی اے اے' قانون کے متن میں یہ لفظ رکھا ہی نہیں گیا ہے. بلکہ 2015 والے ڈرافٹ/مسودے میں یہ لفظ تھا, جسے اِس بار والے ڈرافٹ میں ہٹا دیا گیا ہے. سوچیے کہ آخر کسی وجہ سے ہی یہ لفظ ہٹایا گیا ہوگا. !!!
اسی طرح 'سی اے اے' کے اندر یہ بات بھی ہے کہ بغیر کسی کاغذ کے ان لوگوں کو شہریت دی جائے گی. یعنی جو بھی غیرمسلم یہ دعوی کر دے گا کہ مَیں اپنے مذہب کی بنیاد پر سَتائے جانے کی وجہ سے افغانستان/بنگلہ دیش/پاکستان سے آیا ہوں اسے بغیر کسی کاغذی ثبوت کے شہریت دے دی جائے گی. !!! یعنی اس کا اپنی زبان سے کَہ دینا ہی کافی ہوگا.!!! اس طرح 'این آر سی' (آسام کی ہو یا آل انڈیا) میں خارج ہونے والے سبھی غیرمسلموں کو دوبارہ شہریت دینے کا راستہ بالکل صاف ہے. اور مسلمان ؟!؟؟ ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوگا. !!!
اس لیے اپنے اندر بیداری پیدا کریں. آپ کے خلاف بہت باریک چالیں چلی جا رہی ہیں. مگر آپ خود بےخبر ہیں.
آج آپ کے جو بھی نام نہاد پیشوا قوم کے ساتھ غداری کرکے حکمرانوں کی بولی بول رہے ہیں اور آپ کو جھوٹی تسلی دے رہے ہیں انھیں ہمیشہ کے لیے اپنی پیشوائی سے الگ کردیجیے. ایسے لوگ اپنے مفاد کے لیے پوری قوم کا سودا کرلیں گے, اور ان کا ضمیر بھی شاید انھیں ملامت نہیں کرےگا. میرے الفاظ یاد رکھیں: اگر یہ فاشسٹ/فسطائی لوگ اپنے مقاصد میں -خدا نخواستہ- کامیاب ہوگئے تو یہ نہ آپ پر کوئی رحم کھائیں گے اور نہ آپ کے درمیان موجود اِن 'میرجعفروں' پر. !!!
#NPRisNRC
#Opinion
#نثارمصباحی
27دسمبر2019
Written by: Muhammad Mahil Razvi Markazi Katihari
@Barelvi Network

Thanks شکریہ
Mahil Razvi Markazi ConversionConversion EmoticonEmoticon