غزل
سنئے نہ یار یہ حقیقت ----- ہے
مجھ کو تم سے بڑی محبت ہے
آپ بھی اب بتائے نہ ---- مجھے
کیا تمہیں بھی ہماری چاہت ہے
ویسے آنکھوں سے قتل کرنے میں
تم کو حاصل بڑی مہارت ---- ہے
آپ کا مسکرانا کیا کہنا --- ہے
میرے محبوب اک قیامت ہے
چھوڑ کر آپ مجھ کو مت جانا
آپ سے زندگی میں راحت--- ہے
میرے چھوٹے سے دل کی دنیا پر
آپ ہی کی تو بادشاہت ------- ہے
چھوڑ کر جارہے ہو رستے میں
یہ بھلا کونسی شرافت ---- ہے
زخم دیکر دل محبت ------- کو
پوچھتے ہو کہ کیسی حالت ہے
دیکھو! اظہار عشق کرنا ---- تو
میری فطرت ہے میری عادت ہے
جو بھی کہنا تھا کہہ دیا میں نے
اب بتاؤ کوئی شکایت -------- ہے
غزل
رنج و غم اور یہ جفا کیا ہے
یار میں نے بتا کیا کیا ہے
چل یہ سچ ہے کہ بے وفا ہوں میں
اب بتا تیرا فیصلہ کیا ہے
درد میں لوگ مسکراتے ہیں
اس محبت کا فلسفہ کیا ہے
آج تک جان نہیں سکا کوئی
کہ محبت کی انتہا کیا ہے
وقت یاد میں سدا رونا
ہم کو اس عشق سے ملا کیا ہے
خیر یہ بات تو سمجھ آئی
تیرے دل میں میری جگر کیا ہے
مجھ کو اپنوں نے کر دیا بدنام
چھوڑ اب شکوٰہ و گلہ کیا ہے
رسوا کرنا ہمیں بھی آتا ہے
ایسی باتوں سے فائدہ کیا ہے
گر محبت ہے آپ کو مجھ سے
پھر یہ دوری یہ فاصلہ کیا ہے
دل دکھا ہو تو کچھ پتہ بھی ہو
غم کا عالم تمہیں پتہ کیا ہے
آےحسن دل بھی کسکو دےبیٹھے
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
غزل
جو بھی کہنا ہو صاف صاف کہو
میری جانب سے فل اجازت -- ہے
یا تو ہاں کا جواب دیدیجئے
یا یہ کہہ دیجیئے کہ نفرت ہے
اب تلک کرنا نہیں سکا اظہار
یہ تو ناچیز کی شرافت -- ہے
دیکھو! ناراض یار مت ہونا
شعر کہنا تو میری عادت ہے
میری آنکھوں میں جاگتے سوتے
آپ ہی کی حسین صورت -- ہے
أے حسن کچھ کہو میرا محبوب
خوب صورت ہے خوب سیرت ہے
[محمد حسن رضا مرکزی]

Thanks شکریہ
Mahil Razvi Markazi ConversionConversion EmoticonEmoticon