کچھ اسطرح ملاہے جہاں سے صلہ مجھے کہنے لگے ہیں لوگ سبھی بے وفا مجھے

Ghazal Ali Muhammad Markazi
Ghazal Ali Muhammad Markazi 

غزل

کچھ اسطرح ملاہے جہاں سے صلہ مجھے
کہنے لگے ہیں لوگ  سبھی  بے  وفا  مجھے

کاٹی ہے میں نے کرب سلسل میں زندگی 
ہاتھوں سے اب تو جام  محبت پلا مجھے

یوں تو امیدیں ساری ہوئیں منقطع مگر 
تیرے  وصال  کا  ہے  ابھی   آسرا  مجھے

مرقد میں اپنی شوق سے آیا نہیں ہوں میں
جبراً  کسی کے  عشق میں  لایا  گیا   مجھے

میں ہوں میان صحرا سبھی راستے ہیں گم 
اور  چھوڑ  کر  گیا ہے  میرا   قافلہ    مجھے

جانا ہے تجھکو شوق سے تو چھوڑ جا مگر 
یہ تو بتا دے کس کی  ملی  ہے  سزا  مجھے

نہ دل میں آرزو ہے نہ آنکھوں میں جستجو 
جب سے کیا ہے آپ  نے  یہ  غم عطاء مجھے

مجھکو اسیر  عشق و محبت  نہ کر علی 
یا جان لے  لے  میری یا  کردے  رہا  مجھے

               [علی محمد مرکزی] 


یوں اجنبی سے پیار کا دعویٰ نہ کیجئے 
رسم و رواج عشق کو رسوا نہ   کیجئے 


دامن ہے پاک میرا  جفاؤں  کے داغ سے 
ناموس  کا  سوال  ہے  میلا  نہ  کیجئے


اک عمر میں نے  ساتھ گزاری ہے آپ کے
مجھ سے خدا کے واسطے پردہ نہ کیجئے


ایمان ڈول جاتا ہے  زاہد کا  اس  طرح 
یوں سج سنور کے سامنے آیا نہ کیجئے

مانا کہ پہلے جیسے مراسم نہیں رہے 
ترک  تعلقات   خدارا    نہ      کیجئے

Previous
Next Post »

Thanks شکریہ
Mahil Razvi Markazi ConversionConversion EmoticonEmoticon

Search This Blog

Contact Form

Name

Email *

Message *