کہنے لگے ہیں لوگ سبھی بے وفا مجھے
کاٹی ہے میں نے کرب سلسل میں زندگی
ہاتھوں سے اب تو جام محبت پلا مجھے
یوں تو امیدیں ساری ہوئیں منقطع مگر
تیرے وصال کا ہے ابھی آسرا مجھے
مرقد میں اپنی شوق سے آیا نہیں ہوں میں
جبراً کسی کے عشق میں لایا گیا مجھے
میں ہوں میان صحرا سبھی راستے ہیں گم
اور چھوڑ کر گیا ہے میرا قافلہ مجھے
جانا ہے تجھکو شوق سے تو چھوڑ جا مگر
یہ تو بتا دے کس کی ملی ہے سزا مجھے
نہ دل میں آرزو ہے نہ آنکھوں میں جستجو
جب سے کیا ہے آپ نے یہ غم عطاء مجھے
مجھکو اسیر عشق و محبت نہ کر علی
یا جان لے لے میری یا کردے رہا مجھے
[علی محمد مرکزی]
یوں اجنبی سے پیار کا دعویٰ نہ کیجئے
رسم و رواج عشق کو رسوا نہ کیجئے
یوں اجنبی سے پیار کا دعویٰ نہ کیجئے
رسم و رواج عشق کو رسوا نہ کیجئے
دامن ہے پاک میرا جفاؤں کے داغ سے
ناموس کا سوال ہے میلا نہ کیجئے
اک عمر میں نے ساتھ گزاری ہے آپ کے
مجھ سے خدا کے واسطے پردہ نہ کیجئے
ایمان ڈول جاتا ہے زاہد کا اس طرح
یوں سج سنور کے سامنے آیا نہ کیجئے
مانا کہ پہلے جیسے مراسم نہیں رہے
ترک تعلقات خدارا نہ کیجئے

Thanks شکریہ
Mahil Razvi Markazi ConversionConversion EmoticonEmoticon