![]() |
| Ghazal Muhammad Naaz Markazi |
غزل
میں تلاش کرتا ہوں آپ کو کہاں اور کسی کی تلاش ہے
مجھے غم کی آپ کے ہے طلب مجھے کب خوشی کی تلاش ہے
نہ تو ہوش ہے نہ خیال ہے یہ روانگی ہے کہ بے خودی
میں بھٹک رہا ہوں گلی گلی کسی اجنبی کی تلاش ہے
میرےہم نفس میرے ہم نوامیرےہم نشیں میرےدل ربا
ملے آپ آپ کا شکریہ مجھے آپ ہی کی تلاش ہے
میرا چاند بام فلک سے جب اتر آئے گا میری گود میں
مجھے اس پہر کی ہے جستجو مجھے اس گھڑی کی تلاش ہے
تیری یادوں کاتھا بس اک دیا وہ بھی ٹمٹمانےلگاہے اب
تیرے ارد گرد ہے تیرگی مجھے روشنی کی تلاش ہے
ہے رگوں میں گردش خوں ابھی ابھی ناز سانسوں میں ہے رشق
ابھی دیکھنے کی ہے جستجو ابھی زندگی کی تلاش ہے
[محمد ناز مرکزی]

Thanks شکریہ
Mahil Razvi Markazi ConversionConversion EmoticonEmoticon