ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت

Zaruriyat e Deen 

ضروریات دین اور ضروریات اہل سنت کیا کیا ہیں؟

 امام اہلسنت مجدددین وملت اما م احمدرضاخان علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ضروریات دین : ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہی جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔(فتاوی رضویہ،ج 29،ص 385،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

   مفتی محمد امجد علی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اﷲ عزوجل کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔

عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں، نہ وہ کہ کوردہ اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں۔(بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 172 تا 173، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

 ضروریات دین سے مراد،دین کے وہ احکام و مسائل ہیں، جو قرآن کریم یا حدیث متواتر یا اجماع سے اس طرح ثابت ہوں کہ ان میں نہ کسی شبہے کی گنجائش ہو، نہ تاویل کی کوئی راہ ہو، اور انھیں خواص و عوام سبھی جانتے ہوں ۔ جیسے اللہ جل شانہ کا ایک ہونا ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃوالسلام کی نبوت ۔جنت ودوزخ ۔حشرنشروغیرہ کے مسائل۔نبی رحمت حضرت محمدصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت وغیرہ۔ نماز، روزہ، حج اور زکوۃ وغیرہ کا فرض ہونا اور چوری ، زنا وغیرہ کا حرام ہونا۔

   یہاں خواص سے مراد علمائے کرام ہیں اور عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا شمار طبقہ علما میں نہ ہو، مگر وہ علما کی صحبت سے شرف یاب ہوں اور مسائل علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں۔

ضروریاتِ دین کے بارے میں جاننے کیلئے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ عام طور پر یہ امور مسلمانوں کو وراثتاً معلوم ہوتے ہیں، مثلاً: توحید، رسالت، آخرت، ملائکہ، آسمانی کتابوں، جنت، دوزخ وغیرہ پر ایمان، نماز، روزہ، حج، زکوة کی فرضیت، زنا ،قتل، چوری، شراب خوری وغیرہ کی حرمت وغیرہ ضروریات دین میں شامل ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا خاتم الأنبیاء ہونا، حشر و نشر، جزاء سزا، میزان وغیرہ جیسے تمام امور بھی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہیں۔ ان میں سے کسی شے کا انکار کفر ہے۔

:ضروریات مذہب اہل سنت وجماعت

 وہ مسائل ہیں جو دلیل قطعی سے ثابت ہوں ، لیکن ان میں تاویل کا احتمال ہو، اور ان کا مذہب اہل سنت و جماعت سے ہونا سب عوام و خواص اہل سنت کو معلوم ہو ، جیسے عذاب قبر، اعمال کا وزن، ایصال ثواب وغیرہ۔

   ضروریات اہل سنت کے بارے میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”ضروریاتِ مذہبِ اہلِ سنت وجماعت:ان کا ثبوت بھی دلیلِ قطعی سے ہوتا ہے،مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوعِ شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے،اسی لئے ان کا منکر کافر نہیں، بلکہ گمراہ،بدمذہب ،بددین کہلاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ،جلد29، صفحہ385، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:’’مذہب اہلسنت کی ضروریات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا مذہب ِ اہلسنت سے ہونا سب عوام وخواصِ اہلسنت کو معلوم ہو۔جیسے عذابِ قبر،اعمال کا وزن۔ (نزہۃ القاری شرح صحیح بخاری،جلد1،صفحہ294،مطبوعہ :فرید بک سٹال، لاہور)

 ماھل رضوی مرکزی 🖊

Previous
Next Post »

Thanks شکریہ
Mahil Razvi Markazi ConversionConversion EmoticonEmoticon

Search This Blog

Contact Form

Name

Email *

Message *